Tuesday, April 30, 2019

یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا نے چودہ روپے تک کا اضافہ کرنے کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال

مہنگائی میں پسے عوام کےلئے ایک اور بری خبر آگئی ،یکم مئی سے پٹرول 14 روے 37پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش سامنے آگئی ۔
ذرائع کے مطابق اوگرا نے یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی ۔
قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزارت خزانہ، وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اوگرا نے اپنی سمری میں ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 89 پیسے ،مٹی کا تیل 7 روپے 46پیسے مہنگا کرنے کی سفارش کی ہے ۔
سمری میں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 6 روپے 40 پیسے کی سفارش سامنے آئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 113 روپے 26 پیسے ،ڈیزل کی نئی قیمت 122 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی تجویز دی گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 96روپے 77 پیسے ،لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 86 روپے 94 پیسے فی لیٹر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔

Saturday, April 27, 2019

ہندو دیش کی سری لنکا میں دہشت گردی سامنے آنے کے بعد مودی سرکار پر سکتہ طاری


پاکستانی  پر د گردی کا الزام دھرنے والا بھارت خود دہشت گردی کا سرپرست نکلا۔میڈیا رپورٹسز میں بتایا گیا ہے کہ سرلنکا دھماکوں میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت التوحید کے تانے بانے بھی بھارتسے جا ملے ہیں۔سری لنکا دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ زہران ہاشمی کابھارت میں ٹریننگ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
زہران ہاشم کے کئی مرتبہ بھارت جانے کے بھی ثبوت ملے ہیں۔توحید جماعت کے زہران ہاشم کو بھارت میں ہی تربیت دی گئی۔زہران ہاشمی بھارت میں تین سال تک کالعدم داعش سے رابطے میں رہا۔زہران کے کیرالہ اور تامل ناڈو میں کالعدم داعش کے حامیوں سے رابطے رہے،زہران طوعیل عرصہ تک جنوبی بھارت میں مقیم رہا۔زہران ہاشمی کے انتہا پسند ہندوستانی دہشت گردوں نے


سری لنکا دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کے بھارت سے تعلقات پر بھارتیحکام پر سکتہ طاری ہو گیا ہے۔حقیقی دہشت گرد بھارت دہشتگردوں کی آماجگاہ بن گیا۔بھارتی سرکار ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کہ پناہ گا ہے۔سفارتی زرائع کے مطابق بھارتی ریاست پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔بھارتی جاسوس اوردہشت گرد کلبھوشن اس کی زندہ مثال ہے۔
۔گذشتہ روزسری لنکا کی خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع دی تھی کہ شنگریلا حملے میں ملوث ایک مقامی شدت پسند گروہ کے سربراہ زہران ہاشم کوہلاک کر دیا گیا ۔ بتایا گیا کہ ہاشم کے ساتھ مزید ایک حملہ آور بھی موجود تھا جس کا نام الہام ہے۔ سری لنکا میں ایسٹر سنڈے کو ہونے والے متعدد بم حملوں کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔جب کہ دوسری جانب سری لنکا سے افسوسناک خبریں آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سری لنکامیں سیکورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دورانفائرنگ اور مشتبہ دہشت گردوں کے خود کو دھماکے سے اڑانے کے واقعے میں 6 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں.

ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کیوں آنا نہیں چاہتی جانیئے اس رپورٹ میں


وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ
امریکا میں زیر حراست ڈاکٹرعافیہ صدیقی ’پاکستان نہیں آنا چاہتیں‘ اور ان کی واپسی سے متعلق رپورٹس ’محض افواہیں‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’حکومت، ڈاکٹر عافیہ کی رہائی تک قیدیوں کی امریکا منتقلی روک دے‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو وزیراعظم عمران خان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے مشروط قراردیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے رہنما ملاقات کریں تو ممکن ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی ہو سکے‘۔
ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیا کہ ’شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کا تبادلہ زیربحث آسکتا ہے‘۔
دوسری جانب ڈاکٹرعافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ نے دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کو مسترد کردیا۔
ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ’اگر کوئی کہتا ہے کہ عافیہ خود واپس پاکستان نہیں آنا چاہتیں تو یہ بیان قطعی سچ پر مبنی نہیں ہے۔
مزیدپڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی موت سے متعلق افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد نکلیں
انہوں نے تصدیق کی کہ ہوسٹن میں قونصلیٹ آفس نے گزشتہ ماہ ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی تھی۔
ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ ’ایک وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ کسی بھی لمحہ پاکستان واپس آجائیں گی اور حکومت نے متعدد مرتبہ اطمینان دلایا کہ امریکی حکام سے عافیہ کی واپسی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی خبریں تھی کہ (رواں برس) جنوری یا مارچ میں عافیہ واپس آجائیں گی لیکن اب مکمل خاموشی ہے‘۔
ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ ’میری عافیہ سے فون پر بات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ جیل سے نکلنے کے لیے کسی بھی نوعیت کے دستاویزات پر دستخط کرنے کو تیار ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: ’عافیہ صدیقی کی وطن واپسی ممکن نہیں‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مذکورہ معاملے کو امریکا کے ساتھ زیر بحث لانے کی درخواست کی تھی۔

جس پر وزیر خارجہ نے یقین دلایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپس کا مسئلہ ’زیر غور‘ ہے۔
بعدازاں ہیوسٹن میں قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹرعافیہ سے ملاقات کی اور امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ ’زیر حراست عافیہ کے انسانی اور قانونی حقوق کا خیال رکھے‘۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’آسیہ بی بی پاکستان میں ہیں، جلد بیرون ملک روانہ ہو سکتی ہیں‘۔

پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی کہانی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' سے جڑی کہانیوں میں سب سے اہم ہے، جو مارچ 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر تین اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔
خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔
عافیہ صدیقی کو لاپتہ ہونے کے 5 سال بعد امریکا کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ
امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 'عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائینائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں، جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں'۔
جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداران نے سوالات کیے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں 2010 میں انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دے کر 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Tuesday, April 2, 2019

سہیل وڑائچ کا کالم

سہیل وڑائچ کا شہرہ آفاق کالم تھا کم کم کالموں کو وہ شہرت نصیب ھوئی جو اس کالم کو ھوئی تھی یہ کالم ایک جہاندیدہ صحافی کا ایک تجزیہ تھا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ھونے والی سازشوں سے واقف تھا پانامہ کے ہنگامے اس نے سازش کی بو سونگھ کر یہ کالم تحریر کیا اور اس وقت جب ن لیگ کے بے شمار کارکنوں کے ساتھ ساتھ شاید خود میاں نواز شریف بھی اسے ماننے کو تیارنہیں تھے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ سہیل وڑائچ کا تجزیہ درست تھا مجھے اس وقت خود بھی یہ محسوس ھوا کہ تین بار وزیراعظم رھنے والا  نواز شریف ان سازشوں کا ادراک نہ کر سکا شاید کر بھی لیتا تو وہ یہی کرتا مگر یہ درست ھے کہ وہ نہیں کر سکا  اس بات کو تقویت انکے طرز عمل سے ملتی ھے کہ وہ یہ سمجھ ھی نہ سکے کہ انہیں کس طرح اس قانونی جال میں پھنسایا جا رھا ھے
خیر تمہید کچھ لمبی ھوگئی سہیل وڑائچ کا یہ کالم پڑھ کے مجھے آج اس  کالم کی یاد آ گئی میں اس کالم پر کؤئی تبصرہ نہیں کرونگا آپ خود پڑھئیے اور اپنے تجزئیے سے مطلع فرمائیے
👇👇👇👇👇


کالم۔
کھیل ختم پیسہ ہضم
سہیل وڑائچ

جس طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کھیل پانامہ نے ختم کیا تھا اس طرح تیزی سے تباہ ہوتی معیشت نے عمران خان کا کھیل بھی ختم کر دیا ہے۔ نواز شریف کی فراغت کا عمل پانامہ سے شروع ہو کر واٹس اپ جے آئی ٹی سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور اقامہ پر نا اہلی کے فیصلے سے مکمل ہوا۔ تحریک انصاف کی فراغت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے لیکن یہ عمل نواز شریف کی طرح دو سال نہیں لے گا غالب امکان یہی ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو بیٹھے گی اور میاں شہباز شریف ملک کے نئے وزیراعظم بن جائیں اور سلسلہ دو ڈھائی ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں اکثر گھومنے والے سیاح یہ کہتے ہیں وزیراعظم سے جوائنٹ چیفس اف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات اصل میں کھیل ختم اور پیسہ ہضم والی ملاقات تھی۔

تبدیلی کا عمل ملکی معیشت کے استحکام اور خطہ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ اور داخلہ پالیسوں پر ملکیت برقرار رکھنے کی ایک کوشش تھی لیکن معاشی ترقی کے ہدف کی ناکامی نے باقی اہداف کی تکمیل کو بھی مشکوک کر دیا ہے اور یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ میاں شہباز شریف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول رہے ہیں لیکن اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف سے بے وفائی نہ کرنے پر انہیں وزارت عظمی بھی نہ مل سکی اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی صورت میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی خفگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ حکومت کی تمام محاذوں پر ناکامی اور اس سے زیادہ نا اہلی نے شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا نمائدوں کے درمیان تجدید تعلقات کا موقع فراہم کیا ہے۔


شہباز شریف اگر دونون فریقین میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کوئی قابل عمل تصفیہ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میاں نواز شریف واپس جیل میں نہیں جائیں گے۔ سابق وزیراعظم کو جس طرح فارغ کیا گیا ہے اس کی حقیقت سے تمام فریق واقف ہیں۔ میاں نواز شریف اس وقت مضبوط وکٹ پر ہیں اور ان کو مضبوط پوزیشن حکومت کی نا اہلی اور معاشی تباہی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ معاملہ اب اس بات ختم ہو گا کہ مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی سربراہی میں اپنے پتے کس طرح کھیلتی ہے۔

میاں نواز شریف سیاست سے دستبردار ہونے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں لیکن وہ مریم نواز کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی سیاست سے دست برداری پر تیار ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی بلاول بھٹو کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے اور اگر دونوں سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی اسے معاملہ پر رضامند ہو گئیں تو مستقبل مریم نواز اور بلاول بھٹو کا ہو گا اور اسٹیبلسمنٹ کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ جہاں تک لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے اور این آر او لینے کا سٹنٹ ہے اس معاملہ پر اسٹیبلشمنٹ کو کچھ نہیں ملے گا نہ میاں نواز شریف سے اور نہ آصف علی زرداری سے۔ پیسے دے کر ڈیل لینے کا عمل دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دے گا اور یہ کام کرنا دونوں سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاس آپشن محدود ہو چکے ہیں ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ جس گھوڑے پر داؤ لگایا تھا وہ ریس ہار چکا ہے وہ ہارا ہی نہیں اس نے جوکی کا مستقبل بھی مشکوک کر دیا ہے اس گھوڑے پر اب داؤ نہیں لگے گا۔ اس گھوڑے کا کھیل ختم ہو چکا ہے اور دوبارہ یہ کبھی بھی کھیل میں شامل نہیں ہو گا۔


عمران خان نے بھی نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے وہ اب اینکرزوں کے ساتھ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی بجائے بیٹ رپورٹر کے ساتھ غم بانٹنے لگے ہیں کہ انہیں پتہ ہے اینکرز کس کی زبان بولتے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ پورا میڈیا ہی ایک مخصوص زبان بول رہا ہے وہ اب وزیراعظم کو بیل آؤٹ بھی نہیں کرے گا اور انہیں اب مسیحا بنا کر بھی پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ کھیل ختم ہو چکا ہے اور پیسہ بھی ہضم ہو چکا ہے۔

جہاں تک این ار او نہیں دوں گا کے دعوی کا تعلق ہے تو ان کی اصلیت کا تبدیلی لانے والوں کا بھی پتہ ہے اور خود حکومت کو بھی خبر ہے وہ کس طرح اقتدار میں آئے۔ وزیراعظم اور ان کے وزرا جو کچھ بھی کہتے رہیں ہوگا وہی جو منظور خدا ہو گا اور خدا کو یہی منظور تھا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے اور ان پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں فرد جرم عائد نہ کی جائے۔ خدا کو یہی منطور تھا میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت مل جائے اور چھ ہفتوں کے دوران کوئی مفاہمتی فارمولہ طے پائے جائے۔
یہ اس قدر ظالم اور نا اہل ثابت ہوئے ہیں پوری معیشت کا ناس مار دیا ہے اور حالات اس نہج پر آگئے ہیں مارشل لا بھی نہیں لگ سکتا اس لئے ڈیل ہو گی اور چھ ہفتوں کے اندر ہو گی۔