Thursday, January 2, 2020

وفاقی وزیر مراد سعید اور گورنر پنجاب کے موٹر ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کامیاب


وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا کہنا ہے کہ موٹر ویز اور ہائی ویز پر بھاری جرمانوں پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ ‏موٹر ویز اور ہائی ویز پر بھاری جرمانے آج سے نافذ العمل ہونا تھے لیکن مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج کے باعث ابھی عمل درآمد نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جرمانوں پر ابھی غور جاری ہے، بھاری جرمانے ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع سے بچاؤ کے لیے کیے گئے۔
خیال رہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ٹریفک قوانین کیخلاف ورزی پر جرمانوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے جس کے خلاف خیبر پختونخوا اور پشاور کے کئی شہروں میں ٹرانسپورٹرز نے آج پہیہ جام ہڑتال کی۔

Tuesday, June 11, 2019

اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان کے خطاب کیا یہ سچ اور حق پر مبنی ہے یا صرف گیم

Speech of PrimeMinister

*وزیراعظم عمران خان کاقوم سےخطاب*
ریاست مدینہ میں امیروں سےرقم لیکرغریبوں پرخرچ ہوتی تھی،وزیراعظم
ریاست مدینہ میں قانون کی نظرمیں سب برابرتھے،وزیراعظم
مسلمانوں نےدنیاپرحکمرانی کی،وزیراعظم عمران خان
جب سےاقتدارمیں آئےسن رہےہیں کدھرہےنیاپاکستان،وزیراعظم
مدینہ کی ریاست ایک دن میں قائم نہیں ہوئی،وزیراعظم عمران خان
مسلمان جہدمسلسل سےایک عظیم قوم بنی،وزیراعظم عمران خان
نیاپاکستان ایک عمل ہےجسےپوراکریں گے،وزیراعظم عمران خان
کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھایہ بڑےبڑےبرج جیلوں میں ہوں گے،وزیراعظم
اپوزیشن پر کیسزمیں نےنہیں بنائے،وزیراعظم عمران خان
ماضی میں حکمران ججزکوفون کرکےفیصلےبتاتےتھے،وزیراعظم
نیب میرےنیچے نہیں ،آج کی عدلیہ آزادہے،وزیراعظم
آج عمران خان بھی عدلیہ اورنیب پراثراندازنہیں ہوسکتا،وزیراعظم
بڑےبڑےبرج جوآج جیل میں ہیں،یہ تبدیلی ہے،وزیراعظم
آج نیب اورعدلیہ آزادہے،میں نیب اورعدلیہ کاکچھ نہیں کرسکتا،وزیراعظم
یہ ہےقانون کی بالادستی جوآہستہ آہستہ نظرآرہی ہے،وزیراعظم عمران خان
نیب کاچیئرمین ہمارالگایاہوانہیں،ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے لگایا،وزیراعظم
جمہوریت تب چلتی ہےجب پارلیمنٹ میں2مختلف نظریےہوں،وزیراعظم
پارلیمنٹ میں بحث کےبعداتفاق رائےپیداہوتاہے،وزیراعظم عمران خان
بحث کےبعداتفاق رائےجمہوریت کاحسن ہے،وزیراعظم عمران خان
پہلےدن سےاپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریرکرنے نہیں دی،وزیراعظم
اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا،وزیراعظم عمران خان
آج شور مچا رہے ہیں کہ زرداری گرفتار ہوگئے، وزیراعظم
نوازشریف،شہبازشریف کیخلاف کیسزہم نےنہیں کیے،وزیراعظم
ن لیگ اورپیپلزپارٹی نےمیثاق جمہوریت پردستخط کیے،وزیراعظم
میثاق جمہوریت میں طےپایا5سال پی پی،5سال ن لیگ حکومت کرےگی،وزیراعظم
پیپلزپارٹی اورن لیگ نےکھل کر کرپشن کی،وزیراعظم
2008کےبعدملک پرجوقرضہ چڑھااسکی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے،وزیراعظم
دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسہ ہنڈی کے ذریعے باہربھجوایا،وزیراعظم
پرویزمشرف نےنوازشریف کواین آراودیا،وزیراعظم
آج ملک اس این آراوکی قیمت اداکررہاہے،وزیراعظم
نوازشریف نےآصف زرداری کو جیل میں ڈالا،وزیراعظم
پیپلزپارٹی،ن لیگ کی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں،وزیراعظم
آج دونوں بڑی جماعتیں اکٹھی ہوگئی ہیں، وزیراعظم
اپوزیشن اس لیےشورمچاررہی ہےکہ میں این آراونہیں دےرہا،وزیراعظم
اپوزیشن چاہتی ہے ان کواین آر او دیا جائے،وزیراعظم عمران خان
میں انہیں این آر او نہیں دوں گا، وزیراعظم عمران خان
اپوزیشن ان مقدمات کیلئےمجھےکیوں ذمہ دارسمجھتی ہے؟وزیراعظم
آصف زرداری کی100ارب روپےکی منی لانڈرنگ سامنےآئی،وزیراعظم
باہرسےپیسےبھیجنےوالافالودےوالانکلا،جعلی اکاؤنٹس استعمال کیے،وزیراعظم
ایک خاتون 5 لاکھ ڈالرزباہرلے جاتے ہوئے پکڑی گئی،وزیراعظم
اس خاتون اور بلاول کو ایک ہی اکاؤنٹ سے پیسے آتے رہے، وزیراعظم
اقامے منی لانڈرنگ کےطریقے تھے،وزیراعظم عمران خان
پاکستانیوں کے باہر 10ارب ڈالرز کے بینک اکاؤنٹس ہیں، وزیراعظم
گزشتہ10سال میں ملکی قرضہ6ہزار30ہزارارب ہوگیا،وزیراعظم
تحقیقات کریں گے10سال میں کس طرح ملک کوتباہ کیاگیا،وزیراعظم
ملکی سربراہ اوروزراءمنی لانڈرنگ کرتےرہے،وزیراعظم عمران خان
اب میں ان کے پیچھےجاؤں گا،وزیراعظم عمران خان
لوٹی ہوئی دولت منی لانڈرنگ سےبیرون ملک منتقل کی گئی،وزیراعظم
مشکل معاشی حالات میں دوست ممالک کامددکرنےکاشکرگزارہوں،وزیراعظم
سابقہ2ادوارمیں بیرونی قرضہ41سے97ارب ڈالرتک پہنچا،وزیراعظم
اقامےلوٹی ہوئی دولت باہربھیجنےکےطریقےہیں،وزیراعظم
پاکستان کےسابق وزیراعظم دبئی کی ایک کمپنی میں ملازم ہے،وزیراعظم
ایف آئی اے،ایف بی آر،ایس ای سی بھی کمیشن میں شامل ہوں گے،وزیراعظم
کمیشن میں آئی ایس آئی،آئی بی کےارکان ہوں گے،وزیراعظم
میں اعلیٰ سطح کمیشن کی مکمل نگرانی کروں گا،وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان کااعلیٰ سطح انکوائری کمیشن بنانےکااعلان
ملک مستحکم ہوگیاہے،اب میں ان کےپیچھےجاؤں گا،وزیراعظم
ملکی سربراہ اوروزراءمنی لانڈرنگ کرتےرہے،وزیراعظم عمران خان
شہبازشریف کی فیملی نے26ملین ڈالرکی منی لانڈرنگ کی،وزیراعظم
ان تینوں بڑےخاندانوں کی دولت بیرون ممالک میں محفوظ ہے،وزیراعظم
سن لو!میں اپنےگھرمیں رہتاہوں،کسی کاڈرنہیں،وزیراعظم
میری جان چلی جائے ، چوروں ، ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا، وزیرِاعظم عمران خان

Thursday, May 9, 2019

2013سے2018کا سفر میاں نوازشریف کا سنہرا دور جو آجکل اور اسوقت صرف سرخیوں میں ملتا ہے کیا نو مہینے کے قلیل عرصے میں تبدیلی کس طرف اور کیا رخ اختیار کرچکا ہے

2013 میں 6 ارب ڈالر کے اوپننگ بیلینس سے حکومت شروع کرتا ہے اور 2018 میں 18 ارب ڈالر کے فارن ریزروز کے ساتھ اپنی مدت پوری کرتا ہے تقریبا 20,000 پوائنٹس سے سٹاک مارکیٹ کو چلانا شروع کرتا ہے اور 53,000 تک پہنچاتا ہے ‏2013 سے 2018 کے درمیان کل 42 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیتا ہے اور اسی مدت میں 70 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرتا ہے سی پیک کے ذریعے تقریبآ 60 ارب ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لاتا ہے 2013 سے 2018 تک 500 کلومیٹرز کی موٹرویز کو 2500 کلو میٹرز تک بڑھاتا ہے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے اور 2018 میں پاکستان کو سرپلس بجلی دے کر جاتا ہے قدرتی گیس کی 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے سرپلس قدرتی گیس چھوڑ کر جاتا ہے دہشت گردی، بدامنی اور بھتہ خوری والا پاکستان وراثت میں حاصل کرتا ہے اور پرامن پاکستان بنا دیتا ہے ٹیکس کلیکشن 2800 ارب سے 4500 ارب روپے تک لے جاتا ہے دفاعی بجٹ 850 ارب روپے سے 1100 ارب روپے تک بڑھاتا ہے  ڈالر کو 108 سے 98 روپے پر لاتا ہے پیٹرول کی قیمت مسلسل کم کرتا ہے ‏پنجاب کے ہر گاؤں تک کارپیٹڈ سڑکیں تعمیر کرتا ہے ان میں قدرتی گیس پہنچاتا یے، بیسک ہیلتھ یونٹس اور ڈی ایچ کیو و سول ہسپتالوں کو فعال کرتا ہے ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور مفت ادویات فراہم کرتا یے ‏پنجاب کے بڑے شہروں میں عام آدمی کی سہولت کیلئے باعزت سفر کیلئے میٹروز تعمیر کرواتا ہے ذہین طالب علموں کیلئے سپیشل فنڈز سے وظیفے اور لیپ ٹاپ سکیم کم پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کیلئے گرین کیب سکیم کھادوں ، بجلی اور خوراک پر سبسڈی حج و عمرہ پر سبسڈی ‏شرح نمو 4 فیصد سالانہ سے اٹھا کر 5.8 فیصد سالانہ
یہ ہے میاں محمد نواز شریف کے سنگین جرائم کی مختصر فہرست انہیں جرائم کی وجہ سے آجکل وہ جیل بھگت رہے ہیں

Wednesday, May 8, 2019

اسلام آباد سٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کی بینک کا اعلان کردیا گیا مزید لنک پر کلک کریں

اسلام آباد(ٹرائیبل  نیوز)سٹیٹ بینک نے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نئے کرنسی نوٹوں کی بکنگ کی تاریخ کا اعلان کردیا  ۔بینک دولت پاکستان نے گزشتہ سالوں کی طرح رواں سال بھی عیدالفطر پر عوام کو نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کیلئے ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ذریعے ایس ایم ایس سروس کا اعلان کردیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق عوام کو موبائل ایس ایم ایس سروس کے ذریعے کمرشل بینکوں کی نامزد ای برانچز سے نئے نوٹوں کا اجرا 20مئی 2019 سے 31مئی 2019 تک جاری رہے گا، نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کیلئے ایک ایس ایم ایس پر چارجز تقریبا 2روپے جمع ٹیکس ہوں گے۔اس سہولت کے تحت نئے نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند فرد کو شارٹ کوڈ 8877پر ایک ایس ایم ایس پیغام بھیجنا ہوگا، جس میں اسے اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبر اور مطلوبہ ای برانچ کا کوڈ لکھنا ہوگا۔ایس ایم ایس بھیجنے والے فرد کو ایک جوابی ایس ایم ایس موصول ہوگا جس میں اس کا ریڈیمشن کوڈ، ای برانچ کا پتہ اور ریڈیمشن کوڈ کے موثر ہونے کی آخری تاریخ لکھی ہوگی، کوڈ زیادہ سے زیادہ دو یوم(ورکنگ ڈیز)کیلئے موثر ہوگا، صارف کو اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ / اسمارٹ کارڈ، اس کی فوٹو کاپی اور 8877سے موصولہ ریڈیمشن کوڈ لے کر متعلقہ ای برانچ جانا ہوگا جہاں سے نئے نوٹ مل جائیں گے۔اسٹیٹ بینک کے جاری اعلامیے کے مطابق نئے نوٹ ملک بھر کے مختلف بینکوں کی 142 شہروں کی 1700شاخوں سے دستیاب ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی بینک کی بی ایس سی کے 16فیلڈ دفاتر سے بھی شہری نئے کرنسی نوٹ حاصل کرسکیں گے.

Saturday, May 4, 2019

موبائل کارڈ پر عائد ٹیکس کے خلاف ایک نئے ہائ کورٹ میں ایک نئے اپیل دائر

موبائل کارڈ ری چارج پر پورا پورا بیلنس ملنا چاہیے، سپریم کورٹ میں فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔
ابھی چند روز قبل ہی سپریم کورٹ نے موبائل فون پر تمام ٹیکسز بحال کرنے کا حکم دیا ہے کہ ایک اور درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کردی گئی ۔

درخواست ایڈووکیٹ کلثوم خالق کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ موبائل کارڈ پر عوام کو پورا بیلنس ملنا چاہیے۔
موبائل ٹیکس کا معاملہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا ٹیکس بحالی کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
درخواست گزار نے عدالت سے موبائل ٹیکس کٹوتی روکنے کا فیصلہ بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

Friday, May 3, 2019

اٹلس ہونڈا کمپنی نے موٹر سائیکل کے مختلف ماڈلوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا اعلان چار سو سے چار ہزار تک کا اضافہ کردیا گیا


لاہور/ کار ساز ادارے اٹلس ہونڈا نے موٹر سائیکلوں کے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں 400 سے 2 ہزار روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
, ,
اٹلس ہونڈا کپمنی کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 900، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 900 روپے جبکہ ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے۔
,
اس سے قبل سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 500 روپے، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 500 روپے اور ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 500 روپے تھی۔
,
اس کے علاوہ سی جی 125 کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزا روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 37 ہزار 900 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 61 ہزار 500 روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 63 ہزار 500 روپے جبکہ سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 93 ہزار روپے ہو گئی ہے۔

,,
سی جی 125 کی قیمت اس سے قبل ایک لاکھ 16 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 35 ہزار روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزار 400 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 60 ہزار روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 62 ہزار روپے اور سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 91 ہزار روپے تھی۔
,
ہونڈا سی جی 125، سی جی 125 ایس، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن، سی بی 125 ایف اور سی بی 125 ایف اسپیشل ایڈیشن کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
,
یاد رہے کہ اٹلس ہونڈا نے رواں سال یکم مارچ کو اپنے مختلف موٹر سائیکل ماڈلز کی قیمت میں 600 سے 2 ہزار روپے اضافہ کیا تھا۔ کمپنی کی جانب سے گزشتہ سال 2018ء میں کم از کم 6 مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

Thursday, May 2, 2019

پی ٹی آء حکومت کو ناقص کار کردگی کا ڈھونگ رچانے والوں متبادل تو بتادو تمہیں بار بار آزماکر عوام کی حالت نہیں بدلی دن بدن ملک قرضوں تلے ڈبو دیا گیا


جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے ملک میں تب سے  باقی تمام سیاسی جماعتوں میں روزِ اول سے ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ نون لیگ،  جماعت اسلامی،  جے یو آئی، پیپلزپارٹی،  وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام جماعتیں اپنا سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی بھی طور کسی بھی قیمت پر ملک میں موجود حکومت کو ناکام بنایا جائے اور اپنا اُلو پھر سے سیدھا کیا جائے۔

آخر کیوں؟

کیا اِس لئے کہ ماضی کی تمام سیاسی جماعتوں کے عیش و عشرت کے جو دن گزرے ہیں وہ پھر سے لوٹ آئیں؟ یا کہ جن شہرہ آفاق ناکام پالیسیاں اُن گزرے ہوئے سیاستدانوں نے ملک کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی تھیں وہ پھر سے لاگو کی جائیں جو کہ ایک خام خیالی ہے اور ملک جو کہ ستر سالوں سے کسی اپاہج کی طرح لنگڑا کر گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا اُسے پھر سے اِنہی لٹیروں کے حوالے کیا جائے؟

یہ جو لوگ آج تبدیلی پر نعرہ زنی کرتے  تھکتے نہیں ،اُن سے ایک سوال ہے کہ آپ کا متبادل کون ہوگا؟

کیا یہ ملک اُنہی گھسے پٹے سیاستدانوں کی ملکیت ہے؟ کیا عوام کو ہر بار اُن کی موروثی سیاست کے بھینٹ چڑھایا جائے گا؟

موجودہ حکومت پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اناڑیوں کا ٹولہ ہے۔  تو جو پہلے آئے تھے وہ کونسے کھلاڑی تھے؟ کیا اُن کی کھلاڑی پن نے ملک میں چار چاند لگا دیئے تھے؟
بہت سے دانشور یہ بات اُچھال رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو ہے تو اُن سے میرا یہ سوال ہے کہ گزرے دور کا وزیر اعظم کس کا پٹھو تھے؟
کیا وہ عوامی تھے؟ کیا وہ کسی کی بیساکھی تھام کر نہیں آیا تھا؟
اور آج جب معاملات خراب ہیں تو دوسرے کو پٹھو پٹھو کہتے نہیں تھکتے؟

فوج اور اداروں پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے یہ صاحبان ہر روز شام کا کھانا بارڈر پر کھاتے ہیں اور ہر دن بندوق کی نالی سے بارود صاف کرنے میں گزارتے ہیں۔ وہ فوج جن کی بدولت آرام سے گھر میں بیٹھے گرم بستروں میں خراٹے لیتے  رہتے ہیں وہ بھی پانچ ہزار کا موبائل لے کر پوسٹ داغ دیتے ہیں!
کہ
" فوج نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ہمارے نوشیروان عادل کو انتخابات میں دھاندلی سے ہرایا گیا الیکشن ریگ ہوئے تھے" تمام معاملات فوج کے کنٹرول میں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

 کون ہو تم لوگ؟
حیثیت کیا ہے تمھاری ؟ کیا تم لوگ فوج کے بغیر رہ سکتے ہو؟ کیا فوج کے بغیر تم میں اتنا دم ہے کہ دشمن کو جواب دے سکو؟

سوال یہ ہے اُن تمام دانشورانِ زمانہ قدیم سے آپ کیا چاہتے ہیں؟
کون موزوں ہے موجودہ حالت میں؟ حل ہے تو بتائیں تنقید نہیں حل۔
 اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پھر اُنہی پرانے پاپیوں کو لے کر آئیں گے جن کی وجہ سے یہ حالت ہوئی ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہونا۔
 پھر بھی آپ کے پاس کوشش ہے کوشش کرکے دیکھیں شاید کامیاب ہو جائیں۔

بلو رانی کہتی رہی کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں آج کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں فوج سے دھمکیاں نہ دلوائیں؟
عجیب بدحواسی کے شکار ہیں۔
 مگر فکر نہ کریں جس طرح پرانے اناڑیوں نے ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ٹھیک اُسی طرح نئے حکمرانوں کا بھی حق ہے کہ وہ بھی سیکھیں۔ اور جب سیکھ بھی جائیں گے تو اتنا یقین ہے کہ برسوں سے ماضی کے مسلط شدہ اور نصب شدگان سے اچھی ہی کارکردگی دیکھائیں گے۔

پاک فوج زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد ۔