Tuesday, June 11, 2019

اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان کے خطاب کیا یہ سچ اور حق پر مبنی ہے یا صرف گیم

Speech of PrimeMinister

*وزیراعظم عمران خان کاقوم سےخطاب*
ریاست مدینہ میں امیروں سےرقم لیکرغریبوں پرخرچ ہوتی تھی،وزیراعظم
ریاست مدینہ میں قانون کی نظرمیں سب برابرتھے،وزیراعظم
مسلمانوں نےدنیاپرحکمرانی کی،وزیراعظم عمران خان
جب سےاقتدارمیں آئےسن رہےہیں کدھرہےنیاپاکستان،وزیراعظم
مدینہ کی ریاست ایک دن میں قائم نہیں ہوئی،وزیراعظم عمران خان
مسلمان جہدمسلسل سےایک عظیم قوم بنی،وزیراعظم عمران خان
نیاپاکستان ایک عمل ہےجسےپوراکریں گے،وزیراعظم عمران خان
کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھایہ بڑےبڑےبرج جیلوں میں ہوں گے،وزیراعظم
اپوزیشن پر کیسزمیں نےنہیں بنائے،وزیراعظم عمران خان
ماضی میں حکمران ججزکوفون کرکےفیصلےبتاتےتھے،وزیراعظم
نیب میرےنیچے نہیں ،آج کی عدلیہ آزادہے،وزیراعظم
آج عمران خان بھی عدلیہ اورنیب پراثراندازنہیں ہوسکتا،وزیراعظم
بڑےبڑےبرج جوآج جیل میں ہیں،یہ تبدیلی ہے،وزیراعظم
آج نیب اورعدلیہ آزادہے،میں نیب اورعدلیہ کاکچھ نہیں کرسکتا،وزیراعظم
یہ ہےقانون کی بالادستی جوآہستہ آہستہ نظرآرہی ہے،وزیراعظم عمران خان
نیب کاچیئرمین ہمارالگایاہوانہیں،ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے لگایا،وزیراعظم
جمہوریت تب چلتی ہےجب پارلیمنٹ میں2مختلف نظریےہوں،وزیراعظم
پارلیمنٹ میں بحث کےبعداتفاق رائےپیداہوتاہے،وزیراعظم عمران خان
بحث کےبعداتفاق رائےجمہوریت کاحسن ہے،وزیراعظم عمران خان
پہلےدن سےاپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریرکرنے نہیں دی،وزیراعظم
اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا،وزیراعظم عمران خان
آج شور مچا رہے ہیں کہ زرداری گرفتار ہوگئے، وزیراعظم
نوازشریف،شہبازشریف کیخلاف کیسزہم نےنہیں کیے،وزیراعظم
ن لیگ اورپیپلزپارٹی نےمیثاق جمہوریت پردستخط کیے،وزیراعظم
میثاق جمہوریت میں طےپایا5سال پی پی،5سال ن لیگ حکومت کرےگی،وزیراعظم
پیپلزپارٹی اورن لیگ نےکھل کر کرپشن کی،وزیراعظم
2008کےبعدملک پرجوقرضہ چڑھااسکی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے،وزیراعظم
دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسہ ہنڈی کے ذریعے باہربھجوایا،وزیراعظم
پرویزمشرف نےنوازشریف کواین آراودیا،وزیراعظم
آج ملک اس این آراوکی قیمت اداکررہاہے،وزیراعظم
نوازشریف نےآصف زرداری کو جیل میں ڈالا،وزیراعظم
پیپلزپارٹی،ن لیگ کی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں،وزیراعظم
آج دونوں بڑی جماعتیں اکٹھی ہوگئی ہیں، وزیراعظم
اپوزیشن اس لیےشورمچاررہی ہےکہ میں این آراونہیں دےرہا،وزیراعظم
اپوزیشن چاہتی ہے ان کواین آر او دیا جائے،وزیراعظم عمران خان
میں انہیں این آر او نہیں دوں گا، وزیراعظم عمران خان
اپوزیشن ان مقدمات کیلئےمجھےکیوں ذمہ دارسمجھتی ہے؟وزیراعظم
آصف زرداری کی100ارب روپےکی منی لانڈرنگ سامنےآئی،وزیراعظم
باہرسےپیسےبھیجنےوالافالودےوالانکلا،جعلی اکاؤنٹس استعمال کیے،وزیراعظم
ایک خاتون 5 لاکھ ڈالرزباہرلے جاتے ہوئے پکڑی گئی،وزیراعظم
اس خاتون اور بلاول کو ایک ہی اکاؤنٹ سے پیسے آتے رہے، وزیراعظم
اقامے منی لانڈرنگ کےطریقے تھے،وزیراعظم عمران خان
پاکستانیوں کے باہر 10ارب ڈالرز کے بینک اکاؤنٹس ہیں، وزیراعظم
گزشتہ10سال میں ملکی قرضہ6ہزار30ہزارارب ہوگیا،وزیراعظم
تحقیقات کریں گے10سال میں کس طرح ملک کوتباہ کیاگیا،وزیراعظم
ملکی سربراہ اوروزراءمنی لانڈرنگ کرتےرہے،وزیراعظم عمران خان
اب میں ان کے پیچھےجاؤں گا،وزیراعظم عمران خان
لوٹی ہوئی دولت منی لانڈرنگ سےبیرون ملک منتقل کی گئی،وزیراعظم
مشکل معاشی حالات میں دوست ممالک کامددکرنےکاشکرگزارہوں،وزیراعظم
سابقہ2ادوارمیں بیرونی قرضہ41سے97ارب ڈالرتک پہنچا،وزیراعظم
اقامےلوٹی ہوئی دولت باہربھیجنےکےطریقےہیں،وزیراعظم
پاکستان کےسابق وزیراعظم دبئی کی ایک کمپنی میں ملازم ہے،وزیراعظم
ایف آئی اے،ایف بی آر،ایس ای سی بھی کمیشن میں شامل ہوں گے،وزیراعظم
کمیشن میں آئی ایس آئی،آئی بی کےارکان ہوں گے،وزیراعظم
میں اعلیٰ سطح کمیشن کی مکمل نگرانی کروں گا،وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان کااعلیٰ سطح انکوائری کمیشن بنانےکااعلان
ملک مستحکم ہوگیاہے،اب میں ان کےپیچھےجاؤں گا،وزیراعظم
ملکی سربراہ اوروزراءمنی لانڈرنگ کرتےرہے،وزیراعظم عمران خان
شہبازشریف کی فیملی نے26ملین ڈالرکی منی لانڈرنگ کی،وزیراعظم
ان تینوں بڑےخاندانوں کی دولت بیرون ممالک میں محفوظ ہے،وزیراعظم
سن لو!میں اپنےگھرمیں رہتاہوں،کسی کاڈرنہیں،وزیراعظم
میری جان چلی جائے ، چوروں ، ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا، وزیرِاعظم عمران خان

Thursday, May 9, 2019

2013سے2018کا سفر میاں نوازشریف کا سنہرا دور جو آجکل اور اسوقت صرف سرخیوں میں ملتا ہے کیا نو مہینے کے قلیل عرصے میں تبدیلی کس طرف اور کیا رخ اختیار کرچکا ہے

2013 میں 6 ارب ڈالر کے اوپننگ بیلینس سے حکومت شروع کرتا ہے اور 2018 میں 18 ارب ڈالر کے فارن ریزروز کے ساتھ اپنی مدت پوری کرتا ہے تقریبا 20,000 پوائنٹس سے سٹاک مارکیٹ کو چلانا شروع کرتا ہے اور 53,000 تک پہنچاتا ہے ‏2013 سے 2018 کے درمیان کل 42 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیتا ہے اور اسی مدت میں 70 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرتا ہے سی پیک کے ذریعے تقریبآ 60 ارب ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لاتا ہے 2013 سے 2018 تک 500 کلومیٹرز کی موٹرویز کو 2500 کلو میٹرز تک بڑھاتا ہے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے اور 2018 میں پاکستان کو سرپلس بجلی دے کر جاتا ہے قدرتی گیس کی 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے سرپلس قدرتی گیس چھوڑ کر جاتا ہے دہشت گردی، بدامنی اور بھتہ خوری والا پاکستان وراثت میں حاصل کرتا ہے اور پرامن پاکستان بنا دیتا ہے ٹیکس کلیکشن 2800 ارب سے 4500 ارب روپے تک لے جاتا ہے دفاعی بجٹ 850 ارب روپے سے 1100 ارب روپے تک بڑھاتا ہے  ڈالر کو 108 سے 98 روپے پر لاتا ہے پیٹرول کی قیمت مسلسل کم کرتا ہے ‏پنجاب کے ہر گاؤں تک کارپیٹڈ سڑکیں تعمیر کرتا ہے ان میں قدرتی گیس پہنچاتا یے، بیسک ہیلتھ یونٹس اور ڈی ایچ کیو و سول ہسپتالوں کو فعال کرتا ہے ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور مفت ادویات فراہم کرتا یے ‏پنجاب کے بڑے شہروں میں عام آدمی کی سہولت کیلئے باعزت سفر کیلئے میٹروز تعمیر کرواتا ہے ذہین طالب علموں کیلئے سپیشل فنڈز سے وظیفے اور لیپ ٹاپ سکیم کم پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کیلئے گرین کیب سکیم کھادوں ، بجلی اور خوراک پر سبسڈی حج و عمرہ پر سبسڈی ‏شرح نمو 4 فیصد سالانہ سے اٹھا کر 5.8 فیصد سالانہ
یہ ہے میاں محمد نواز شریف کے سنگین جرائم کی مختصر فہرست انہیں جرائم کی وجہ سے آجکل وہ جیل بھگت رہے ہیں

Wednesday, May 8, 2019

اسلام آباد سٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کی بینک کا اعلان کردیا گیا مزید لنک پر کلک کریں

اسلام آباد(ٹرائیبل  نیوز)سٹیٹ بینک نے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نئے کرنسی نوٹوں کی بکنگ کی تاریخ کا اعلان کردیا  ۔بینک دولت پاکستان نے گزشتہ سالوں کی طرح رواں سال بھی عیدالفطر پر عوام کو نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کیلئے ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ذریعے ایس ایم ایس سروس کا اعلان کردیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق عوام کو موبائل ایس ایم ایس سروس کے ذریعے کمرشل بینکوں کی نامزد ای برانچز سے نئے نوٹوں کا اجرا 20مئی 2019 سے 31مئی 2019 تک جاری رہے گا، نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کیلئے ایک ایس ایم ایس پر چارجز تقریبا 2روپے جمع ٹیکس ہوں گے۔اس سہولت کے تحت نئے نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند فرد کو شارٹ کوڈ 8877پر ایک ایس ایم ایس پیغام بھیجنا ہوگا، جس میں اسے اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبر اور مطلوبہ ای برانچ کا کوڈ لکھنا ہوگا۔ایس ایم ایس بھیجنے والے فرد کو ایک جوابی ایس ایم ایس موصول ہوگا جس میں اس کا ریڈیمشن کوڈ، ای برانچ کا پتہ اور ریڈیمشن کوڈ کے موثر ہونے کی آخری تاریخ لکھی ہوگی، کوڈ زیادہ سے زیادہ دو یوم(ورکنگ ڈیز)کیلئے موثر ہوگا، صارف کو اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ / اسمارٹ کارڈ، اس کی فوٹو کاپی اور 8877سے موصولہ ریڈیمشن کوڈ لے کر متعلقہ ای برانچ جانا ہوگا جہاں سے نئے نوٹ مل جائیں گے۔اسٹیٹ بینک کے جاری اعلامیے کے مطابق نئے نوٹ ملک بھر کے مختلف بینکوں کی 142 شہروں کی 1700شاخوں سے دستیاب ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی بینک کی بی ایس سی کے 16فیلڈ دفاتر سے بھی شہری نئے کرنسی نوٹ حاصل کرسکیں گے.

Saturday, May 4, 2019

موبائل کارڈ پر عائد ٹیکس کے خلاف ایک نئے ہائ کورٹ میں ایک نئے اپیل دائر

موبائل کارڈ ری چارج پر پورا پورا بیلنس ملنا چاہیے، سپریم کورٹ میں فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔
ابھی چند روز قبل ہی سپریم کورٹ نے موبائل فون پر تمام ٹیکسز بحال کرنے کا حکم دیا ہے کہ ایک اور درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کردی گئی ۔

درخواست ایڈووکیٹ کلثوم خالق کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ موبائل کارڈ پر عوام کو پورا بیلنس ملنا چاہیے۔
موبائل ٹیکس کا معاملہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا ٹیکس بحالی کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
درخواست گزار نے عدالت سے موبائل ٹیکس کٹوتی روکنے کا فیصلہ بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

Friday, May 3, 2019

اٹلس ہونڈا کمپنی نے موٹر سائیکل کے مختلف ماڈلوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا اعلان چار سو سے چار ہزار تک کا اضافہ کردیا گیا


لاہور/ کار ساز ادارے اٹلس ہونڈا نے موٹر سائیکلوں کے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں 400 سے 2 ہزار روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
, ,
اٹلس ہونڈا کپمنی کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 900، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 900 روپے جبکہ ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے۔
,
اس سے قبل سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 500 روپے، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 500 روپے اور ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 500 روپے تھی۔
,
اس کے علاوہ سی جی 125 کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزا روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 37 ہزار 900 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 61 ہزار 500 روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 63 ہزار 500 روپے جبکہ سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 93 ہزار روپے ہو گئی ہے۔

,,
سی جی 125 کی قیمت اس سے قبل ایک لاکھ 16 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 35 ہزار روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزار 400 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 60 ہزار روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 62 ہزار روپے اور سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 91 ہزار روپے تھی۔
,
ہونڈا سی جی 125، سی جی 125 ایس، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن، سی بی 125 ایف اور سی بی 125 ایف اسپیشل ایڈیشن کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
,
یاد رہے کہ اٹلس ہونڈا نے رواں سال یکم مارچ کو اپنے مختلف موٹر سائیکل ماڈلز کی قیمت میں 600 سے 2 ہزار روپے اضافہ کیا تھا۔ کمپنی کی جانب سے گزشتہ سال 2018ء میں کم از کم 6 مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

Thursday, May 2, 2019

پی ٹی آء حکومت کو ناقص کار کردگی کا ڈھونگ رچانے والوں متبادل تو بتادو تمہیں بار بار آزماکر عوام کی حالت نہیں بدلی دن بدن ملک قرضوں تلے ڈبو دیا گیا


جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے ملک میں تب سے  باقی تمام سیاسی جماعتوں میں روزِ اول سے ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ نون لیگ،  جماعت اسلامی،  جے یو آئی، پیپلزپارٹی،  وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام جماعتیں اپنا سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی بھی طور کسی بھی قیمت پر ملک میں موجود حکومت کو ناکام بنایا جائے اور اپنا اُلو پھر سے سیدھا کیا جائے۔

آخر کیوں؟

کیا اِس لئے کہ ماضی کی تمام سیاسی جماعتوں کے عیش و عشرت کے جو دن گزرے ہیں وہ پھر سے لوٹ آئیں؟ یا کہ جن شہرہ آفاق ناکام پالیسیاں اُن گزرے ہوئے سیاستدانوں نے ملک کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی تھیں وہ پھر سے لاگو کی جائیں جو کہ ایک خام خیالی ہے اور ملک جو کہ ستر سالوں سے کسی اپاہج کی طرح لنگڑا کر گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا اُسے پھر سے اِنہی لٹیروں کے حوالے کیا جائے؟

یہ جو لوگ آج تبدیلی پر نعرہ زنی کرتے  تھکتے نہیں ،اُن سے ایک سوال ہے کہ آپ کا متبادل کون ہوگا؟

کیا یہ ملک اُنہی گھسے پٹے سیاستدانوں کی ملکیت ہے؟ کیا عوام کو ہر بار اُن کی موروثی سیاست کے بھینٹ چڑھایا جائے گا؟

موجودہ حکومت پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اناڑیوں کا ٹولہ ہے۔  تو جو پہلے آئے تھے وہ کونسے کھلاڑی تھے؟ کیا اُن کی کھلاڑی پن نے ملک میں چار چاند لگا دیئے تھے؟
بہت سے دانشور یہ بات اُچھال رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو ہے تو اُن سے میرا یہ سوال ہے کہ گزرے دور کا وزیر اعظم کس کا پٹھو تھے؟
کیا وہ عوامی تھے؟ کیا وہ کسی کی بیساکھی تھام کر نہیں آیا تھا؟
اور آج جب معاملات خراب ہیں تو دوسرے کو پٹھو پٹھو کہتے نہیں تھکتے؟

فوج اور اداروں پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے یہ صاحبان ہر روز شام کا کھانا بارڈر پر کھاتے ہیں اور ہر دن بندوق کی نالی سے بارود صاف کرنے میں گزارتے ہیں۔ وہ فوج جن کی بدولت آرام سے گھر میں بیٹھے گرم بستروں میں خراٹے لیتے  رہتے ہیں وہ بھی پانچ ہزار کا موبائل لے کر پوسٹ داغ دیتے ہیں!
کہ
" فوج نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ہمارے نوشیروان عادل کو انتخابات میں دھاندلی سے ہرایا گیا الیکشن ریگ ہوئے تھے" تمام معاملات فوج کے کنٹرول میں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

 کون ہو تم لوگ؟
حیثیت کیا ہے تمھاری ؟ کیا تم لوگ فوج کے بغیر رہ سکتے ہو؟ کیا فوج کے بغیر تم میں اتنا دم ہے کہ دشمن کو جواب دے سکو؟

سوال یہ ہے اُن تمام دانشورانِ زمانہ قدیم سے آپ کیا چاہتے ہیں؟
کون موزوں ہے موجودہ حالت میں؟ حل ہے تو بتائیں تنقید نہیں حل۔
 اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پھر اُنہی پرانے پاپیوں کو لے کر آئیں گے جن کی وجہ سے یہ حالت ہوئی ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہونا۔
 پھر بھی آپ کے پاس کوشش ہے کوشش کرکے دیکھیں شاید کامیاب ہو جائیں۔

بلو رانی کہتی رہی کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں آج کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں فوج سے دھمکیاں نہ دلوائیں؟
عجیب بدحواسی کے شکار ہیں۔
 مگر فکر نہ کریں جس طرح پرانے اناڑیوں نے ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ٹھیک اُسی طرح نئے حکمرانوں کا بھی حق ہے کہ وہ بھی سیکھیں۔ اور جب سیکھ بھی جائیں گے تو اتنا یقین ہے کہ برسوں سے ماضی کے مسلط شدہ اور نصب شدگان سے اچھی ہی کارکردگی دیکھائیں گے۔

پاک فوج زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد ۔

اسلام آباد/ نان فائل گاڑی مالکان کیلئے خوشخبری منگل سے اپنی گاڑیاں رجسترڈ کروائ جاسکیں گی

ملکی سطح پربنائی جانے والی گاڑیاں منگل کے روزسے صوبہ بھرمیں رجسٹرڈ کروائی جاسکیں گی، قانون میں ترامیم کے اطلاق کا نوٹیفکیشن پرعملدرآمد کے لیے ایکسائز موٹر برانچزکا سسٹم اپڈیٹ کردیا گیا۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو ملاقات، سلمان رفیق نے بڑی پیشگوئی کردی
جون 2018 میں نان فائلرزکو پنجاب میں نان فائلرز کے نام گاڑیوں کی رجسٹریشن روک دی گئی تھی جسکی وجہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اورمحکمہ ایکسائز کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ڈائریکٹرریجن سی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے موٹرایکٹ میں ترمیم کردی گئی ہے اور منگل کے روز سے اس پرعملدرآمد کا حکم دے دیا گیا ہے، اب لوکل تیار ہونے والی تمام گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور ٹریکٹرز کو نان فائلرز اپنے نام پر رجسٹرڈکرواسکیں گے جبکہ امپورٹڈ گاڑیاں صرف فائلرز کے نام پرہی رجسٹرڈ ہونگی۔

نان فائلرزکی رجسٹریشن سےمحکمے کو3 ارب تک اضافی ریونیو اکٹھا ہونے کی توقع ہے، دوسری جانب حکومت نے لوڈر رکشوں کے مالکان کوبھی 31 مارچ تک پاسنگ کروا کر رجسٹرڈ کروانے کاحکم دیا ہے جس پر ڈی جی ایکسائز نے عملدرآمد کے تمام ڈائریکٹرز کو مراسلہ بھجوادیا ہے

اسلام آباد وفاقی وزیر علی محمد خان نے استعفی کا اعلان کرکے پی ٹی آئی کو لمحہ فکریہ قرار

علی محمد خان نے عمران خان کو بڑا جھٹکا دیدیا ، استعفیٰ دینے کا اعلان ، وجہ بھی ایسی کہ پاکستانی خوشی سے جھوم اٹھے ۔۔۔ تحریک انصاف کے رہنما، وفاقی وزیر علی محمد خان نے مستعفی ہونے، سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی دھمکی دے دی، وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے، اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے،کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے۔ علی محمد خان کہتے ہیں کہ اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے۔ کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔ کم عمری کی شادی پر پابندی پر پابندی کا بل اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے، پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل پاس نہیں کیا جاسکتا، اس کو نطریاتی کونسل کے پاس بھجوایا جائے اور ان کی سفارشات کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے اراکین کی اکثریت نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی حمایت کر دی تھی۔

Tuesday, April 30, 2019

یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا نے چودہ روپے تک کا اضافہ کرنے کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال

مہنگائی میں پسے عوام کےلئے ایک اور بری خبر آگئی ،یکم مئی سے پٹرول 14 روے 37پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش سامنے آگئی ۔
ذرائع کے مطابق اوگرا نے یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی ۔
قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزارت خزانہ، وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اوگرا نے اپنی سمری میں ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 89 پیسے ،مٹی کا تیل 7 روپے 46پیسے مہنگا کرنے کی سفارش کی ہے ۔
سمری میں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 6 روپے 40 پیسے کی سفارش سامنے آئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 113 روپے 26 پیسے ،ڈیزل کی نئی قیمت 122 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی تجویز دی گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 96روپے 77 پیسے ،لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 86 روپے 94 پیسے فی لیٹر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔

Saturday, April 27, 2019

ہندو دیش کی سری لنکا میں دہشت گردی سامنے آنے کے بعد مودی سرکار پر سکتہ طاری


پاکستانی  پر د گردی کا الزام دھرنے والا بھارت خود دہشت گردی کا سرپرست نکلا۔میڈیا رپورٹسز میں بتایا گیا ہے کہ سرلنکا دھماکوں میں ملوث دہشت گرد تنظیم جماعت التوحید کے تانے بانے بھی بھارتسے جا ملے ہیں۔سری لنکا دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ زہران ہاشمی کابھارت میں ٹریننگ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
زہران ہاشم کے کئی مرتبہ بھارت جانے کے بھی ثبوت ملے ہیں۔توحید جماعت کے زہران ہاشم کو بھارت میں ہی تربیت دی گئی۔زہران ہاشمی بھارت میں تین سال تک کالعدم داعش سے رابطے میں رہا۔زہران کے کیرالہ اور تامل ناڈو میں کالعدم داعش کے حامیوں سے رابطے رہے،زہران طوعیل عرصہ تک جنوبی بھارت میں مقیم رہا۔زہران ہاشمی کے انتہا پسند ہندوستانی دہشت گردوں نے


سری لنکا دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کے بھارت سے تعلقات پر بھارتیحکام پر سکتہ طاری ہو گیا ہے۔حقیقی دہشت گرد بھارت دہشتگردوں کی آماجگاہ بن گیا۔بھارتی سرکار ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کہ پناہ گا ہے۔سفارتی زرائع کے مطابق بھارتی ریاست پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔بھارتی جاسوس اوردہشت گرد کلبھوشن اس کی زندہ مثال ہے۔
۔گذشتہ روزسری لنکا کی خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع دی تھی کہ شنگریلا حملے میں ملوث ایک مقامی شدت پسند گروہ کے سربراہ زہران ہاشم کوہلاک کر دیا گیا ۔ بتایا گیا کہ ہاشم کے ساتھ مزید ایک حملہ آور بھی موجود تھا جس کا نام الہام ہے۔ سری لنکا میں ایسٹر سنڈے کو ہونے والے متعدد بم حملوں کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔جب کہ دوسری جانب سری لنکا سے افسوسناک خبریں آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سری لنکامیں سیکورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دورانفائرنگ اور مشتبہ دہشت گردوں کے خود کو دھماکے سے اڑانے کے واقعے میں 6 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں.

ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کیوں آنا نہیں چاہتی جانیئے اس رپورٹ میں


وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ
امریکا میں زیر حراست ڈاکٹرعافیہ صدیقی ’پاکستان نہیں آنا چاہتیں‘ اور ان کی واپسی سے متعلق رپورٹس ’محض افواہیں‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’حکومت، ڈاکٹر عافیہ کی رہائی تک قیدیوں کی امریکا منتقلی روک دے‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو وزیراعظم عمران خان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے مشروط قراردیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے رہنما ملاقات کریں تو ممکن ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی ہو سکے‘۔
ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیا کہ ’شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کا تبادلہ زیربحث آسکتا ہے‘۔
دوسری جانب ڈاکٹرعافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ نے دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کو مسترد کردیا۔
ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ’اگر کوئی کہتا ہے کہ عافیہ خود واپس پاکستان نہیں آنا چاہتیں تو یہ بیان قطعی سچ پر مبنی نہیں ہے۔
مزیدپڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی موت سے متعلق افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد نکلیں
انہوں نے تصدیق کی کہ ہوسٹن میں قونصلیٹ آفس نے گزشتہ ماہ ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی تھی۔
ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ ’ایک وقت ایسا لگا کہ جیسے وہ کسی بھی لمحہ پاکستان واپس آجائیں گی اور حکومت نے متعدد مرتبہ اطمینان دلایا کہ امریکی حکام سے عافیہ کی واپسی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی خبریں تھی کہ (رواں برس) جنوری یا مارچ میں عافیہ واپس آجائیں گی لیکن اب مکمل خاموشی ہے‘۔
ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ ’میری عافیہ سے فون پر بات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ جیل سے نکلنے کے لیے کسی بھی نوعیت کے دستاویزات پر دستخط کرنے کو تیار ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: ’عافیہ صدیقی کی وطن واپسی ممکن نہیں‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مذکورہ معاملے کو امریکا کے ساتھ زیر بحث لانے کی درخواست کی تھی۔

جس پر وزیر خارجہ نے یقین دلایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپس کا مسئلہ ’زیر غور‘ ہے۔
بعدازاں ہیوسٹن میں قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹرعافیہ سے ملاقات کی اور امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ ’زیر حراست عافیہ کے انسانی اور قانونی حقوق کا خیال رکھے‘۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’آسیہ بی بی پاکستان میں ہیں، جلد بیرون ملک روانہ ہو سکتی ہیں‘۔

پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی کہانی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' سے جڑی کہانیوں میں سب سے اہم ہے، جو مارچ 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر تین اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔
خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔
عافیہ صدیقی کو لاپتہ ہونے کے 5 سال بعد امریکا کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ
امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 'عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائینائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں، جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں'۔
جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداران نے سوالات کیے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں 2010 میں انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دے کر 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Tuesday, April 2, 2019

سہیل وڑائچ کا کالم

سہیل وڑائچ کا شہرہ آفاق کالم تھا کم کم کالموں کو وہ شہرت نصیب ھوئی جو اس کالم کو ھوئی تھی یہ کالم ایک جہاندیدہ صحافی کا ایک تجزیہ تھا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ھونے والی سازشوں سے واقف تھا پانامہ کے ہنگامے اس نے سازش کی بو سونگھ کر یہ کالم تحریر کیا اور اس وقت جب ن لیگ کے بے شمار کارکنوں کے ساتھ ساتھ شاید خود میاں نواز شریف بھی اسے ماننے کو تیارنہیں تھے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ سہیل وڑائچ کا تجزیہ درست تھا مجھے اس وقت خود بھی یہ محسوس ھوا کہ تین بار وزیراعظم رھنے والا  نواز شریف ان سازشوں کا ادراک نہ کر سکا شاید کر بھی لیتا تو وہ یہی کرتا مگر یہ درست ھے کہ وہ نہیں کر سکا  اس بات کو تقویت انکے طرز عمل سے ملتی ھے کہ وہ یہ سمجھ ھی نہ سکے کہ انہیں کس طرح اس قانونی جال میں پھنسایا جا رھا ھے
خیر تمہید کچھ لمبی ھوگئی سہیل وڑائچ کا یہ کالم پڑھ کے مجھے آج اس  کالم کی یاد آ گئی میں اس کالم پر کؤئی تبصرہ نہیں کرونگا آپ خود پڑھئیے اور اپنے تجزئیے سے مطلع فرمائیے
👇👇👇👇👇


کالم۔
کھیل ختم پیسہ ہضم
سہیل وڑائچ

جس طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کھیل پانامہ نے ختم کیا تھا اس طرح تیزی سے تباہ ہوتی معیشت نے عمران خان کا کھیل بھی ختم کر دیا ہے۔ نواز شریف کی فراغت کا عمل پانامہ سے شروع ہو کر واٹس اپ جے آئی ٹی سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور اقامہ پر نا اہلی کے فیصلے سے مکمل ہوا۔ تحریک انصاف کی فراغت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے لیکن یہ عمل نواز شریف کی طرح دو سال نہیں لے گا غالب امکان یہی ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو بیٹھے گی اور میاں شہباز شریف ملک کے نئے وزیراعظم بن جائیں اور سلسلہ دو ڈھائی ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں اکثر گھومنے والے سیاح یہ کہتے ہیں وزیراعظم سے جوائنٹ چیفس اف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات اصل میں کھیل ختم اور پیسہ ہضم والی ملاقات تھی۔

تبدیلی کا عمل ملکی معیشت کے استحکام اور خطہ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ اور داخلہ پالیسوں پر ملکیت برقرار رکھنے کی ایک کوشش تھی لیکن معاشی ترقی کے ہدف کی ناکامی نے باقی اہداف کی تکمیل کو بھی مشکوک کر دیا ہے اور یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ میاں شہباز شریف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول رہے ہیں لیکن اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف سے بے وفائی نہ کرنے پر انہیں وزارت عظمی بھی نہ مل سکی اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی صورت میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی خفگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ حکومت کی تمام محاذوں پر ناکامی اور اس سے زیادہ نا اہلی نے شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا نمائدوں کے درمیان تجدید تعلقات کا موقع فراہم کیا ہے۔


شہباز شریف اگر دونون فریقین میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کوئی قابل عمل تصفیہ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میاں نواز شریف واپس جیل میں نہیں جائیں گے۔ سابق وزیراعظم کو جس طرح فارغ کیا گیا ہے اس کی حقیقت سے تمام فریق واقف ہیں۔ میاں نواز شریف اس وقت مضبوط وکٹ پر ہیں اور ان کو مضبوط پوزیشن حکومت کی نا اہلی اور معاشی تباہی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ معاملہ اب اس بات ختم ہو گا کہ مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی سربراہی میں اپنے پتے کس طرح کھیلتی ہے۔

میاں نواز شریف سیاست سے دستبردار ہونے کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں لیکن وہ مریم نواز کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی سیاست سے دست برداری پر تیار ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی بلاول بھٹو کی سیاست میں موجودگی پر اصرار کریں گے اور اگر دونوں سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی اسے معاملہ پر رضامند ہو گئیں تو مستقبل مریم نواز اور بلاول بھٹو کا ہو گا اور اسٹیبلسمنٹ کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ جہاں تک لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے اور این آر او لینے کا سٹنٹ ہے اس معاملہ پر اسٹیبلشمنٹ کو کچھ نہیں ملے گا نہ میاں نواز شریف سے اور نہ آصف علی زرداری سے۔ پیسے دے کر ڈیل لینے کا عمل دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دے گا اور یہ کام کرنا دونوں سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاس آپشن محدود ہو چکے ہیں ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ جس گھوڑے پر داؤ لگایا تھا وہ ریس ہار چکا ہے وہ ہارا ہی نہیں اس نے جوکی کا مستقبل بھی مشکوک کر دیا ہے اس گھوڑے پر اب داؤ نہیں لگے گا۔ اس گھوڑے کا کھیل ختم ہو چکا ہے اور دوبارہ یہ کبھی بھی کھیل میں شامل نہیں ہو گا۔


عمران خان نے بھی نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے وہ اب اینکرزوں کے ساتھ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی بجائے بیٹ رپورٹر کے ساتھ غم بانٹنے لگے ہیں کہ انہیں پتہ ہے اینکرز کس کی زبان بولتے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ پورا میڈیا ہی ایک مخصوص زبان بول رہا ہے وہ اب وزیراعظم کو بیل آؤٹ بھی نہیں کرے گا اور انہیں اب مسیحا بنا کر بھی پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ کھیل ختم ہو چکا ہے اور پیسہ بھی ہضم ہو چکا ہے۔

جہاں تک این ار او نہیں دوں گا کے دعوی کا تعلق ہے تو ان کی اصلیت کا تبدیلی لانے والوں کا بھی پتہ ہے اور خود حکومت کو بھی خبر ہے وہ کس طرح اقتدار میں آئے۔ وزیراعظم اور ان کے وزرا جو کچھ بھی کہتے رہیں ہوگا وہی جو منظور خدا ہو گا اور خدا کو یہی منظور تھا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے اور ان پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں فرد جرم عائد نہ کی جائے۔ خدا کو یہی منطور تھا میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت مل جائے اور چھ ہفتوں کے دوران کوئی مفاہمتی فارمولہ طے پائے جائے۔
یہ اس قدر ظالم اور نا اہل ثابت ہوئے ہیں پوری معیشت کا ناس مار دیا ہے اور حالات اس نہج پر آگئے ہیں مارشل لا بھی نہیں لگ سکتا اس لئے ڈیل ہو گی اور چھ ہفتوں کے اندر ہو گی۔