جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے ملک میں تب سے باقی تمام سیاسی جماعتوں میں روزِ اول سے ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ نون لیگ، جماعت اسلامی، جے یو آئی، پیپلزپارٹی، وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام جماعتیں اپنا سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی بھی طور کسی بھی قیمت پر ملک میں موجود حکومت کو ناکام بنایا جائے اور اپنا اُلو پھر سے سیدھا کیا جائے۔
آخر کیوں؟
کیا اِس لئے کہ ماضی کی تمام سیاسی جماعتوں کے عیش و عشرت کے جو دن گزرے ہیں وہ پھر سے لوٹ آئیں؟ یا کہ جن شہرہ آفاق ناکام پالیسیاں اُن گزرے ہوئے سیاستدانوں نے ملک کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی تھیں وہ پھر سے لاگو کی جائیں جو کہ ایک خام خیالی ہے اور ملک جو کہ ستر سالوں سے کسی اپاہج کی طرح لنگڑا کر گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا اُسے پھر سے اِنہی لٹیروں کے حوالے کیا جائے؟
یہ جو لوگ آج تبدیلی پر نعرہ زنی کرتے تھکتے نہیں ،اُن سے ایک سوال ہے کہ آپ کا متبادل کون ہوگا؟
کیا یہ ملک اُنہی گھسے پٹے سیاستدانوں کی ملکیت ہے؟ کیا عوام کو ہر بار اُن کی موروثی سیاست کے بھینٹ چڑھایا جائے گا؟
موجودہ حکومت پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اناڑیوں کا ٹولہ ہے۔ تو جو پہلے آئے تھے وہ کونسے کھلاڑی تھے؟ کیا اُن کی کھلاڑی پن نے ملک میں چار چاند لگا دیئے تھے؟
بہت سے دانشور یہ بات اُچھال رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو ہے تو اُن سے میرا یہ سوال ہے کہ گزرے دور کا وزیر اعظم کس کا پٹھو تھے؟
کیا وہ عوامی تھے؟ کیا وہ کسی کی بیساکھی تھام کر نہیں آیا تھا؟
اور آج جب معاملات خراب ہیں تو دوسرے کو پٹھو پٹھو کہتے نہیں تھکتے؟
فوج اور اداروں پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے یہ صاحبان ہر روز شام کا کھانا بارڈر پر کھاتے ہیں اور ہر دن بندوق کی نالی سے بارود صاف کرنے میں گزارتے ہیں۔ وہ فوج جن کی بدولت آرام سے گھر میں بیٹھے گرم بستروں میں خراٹے لیتے رہتے ہیں وہ بھی پانچ ہزار کا موبائل لے کر پوسٹ داغ دیتے ہیں!
کہ
" فوج نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ہمارے نوشیروان عادل کو انتخابات میں دھاندلی سے ہرایا گیا الیکشن ریگ ہوئے تھے" تمام معاملات فوج کے کنٹرول میں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
کون ہو تم لوگ؟
حیثیت کیا ہے تمھاری ؟ کیا تم لوگ فوج کے بغیر رہ سکتے ہو؟ کیا فوج کے بغیر تم میں اتنا دم ہے کہ دشمن کو جواب دے سکو؟
سوال یہ ہے اُن تمام دانشورانِ زمانہ قدیم سے آپ کیا چاہتے ہیں؟
کون موزوں ہے موجودہ حالت میں؟ حل ہے تو بتائیں تنقید نہیں حل۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پھر اُنہی پرانے پاپیوں کو لے کر آئیں گے جن کی وجہ سے یہ حالت ہوئی ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہونا۔
پھر بھی آپ کے پاس کوشش ہے کوشش کرکے دیکھیں شاید کامیاب ہو جائیں۔
بلو رانی کہتی رہی کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں آج کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں فوج سے دھمکیاں نہ دلوائیں؟
عجیب بدحواسی کے شکار ہیں۔
مگر فکر نہ کریں جس طرح پرانے اناڑیوں نے ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ٹھیک اُسی طرح نئے حکمرانوں کا بھی حق ہے کہ وہ بھی سیکھیں۔ اور جب سیکھ بھی جائیں گے تو اتنا یقین ہے کہ برسوں سے ماضی کے مسلط شدہ اور نصب شدگان سے اچھی ہی کارکردگی دیکھائیں گے۔
پاک فوج زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد ۔

:/
ReplyDelete