Thursday, May 9, 2019

2013سے2018کا سفر میاں نوازشریف کا سنہرا دور جو آجکل اور اسوقت صرف سرخیوں میں ملتا ہے کیا نو مہینے کے قلیل عرصے میں تبدیلی کس طرف اور کیا رخ اختیار کرچکا ہے

2013 میں 6 ارب ڈالر کے اوپننگ بیلینس سے حکومت شروع کرتا ہے اور 2018 میں 18 ارب ڈالر کے فارن ریزروز کے ساتھ اپنی مدت پوری کرتا ہے تقریبا 20,000 پوائنٹس سے سٹاک مارکیٹ کو چلانا شروع کرتا ہے اور 53,000 تک پہنچاتا ہے ‏2013 سے 2018 کے درمیان کل 42 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیتا ہے اور اسی مدت میں 70 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرتا ہے سی پیک کے ذریعے تقریبآ 60 ارب ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لاتا ہے 2013 سے 2018 تک 500 کلومیٹرز کی موٹرویز کو 2500 کلو میٹرز تک بڑھاتا ہے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے اور 2018 میں پاکستان کو سرپلس بجلی دے کر جاتا ہے قدرتی گیس کی 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ورثے میں حاصل کرتا ہے سرپلس قدرتی گیس چھوڑ کر جاتا ہے دہشت گردی، بدامنی اور بھتہ خوری والا پاکستان وراثت میں حاصل کرتا ہے اور پرامن پاکستان بنا دیتا ہے ٹیکس کلیکشن 2800 ارب سے 4500 ارب روپے تک لے جاتا ہے دفاعی بجٹ 850 ارب روپے سے 1100 ارب روپے تک بڑھاتا ہے  ڈالر کو 108 سے 98 روپے پر لاتا ہے پیٹرول کی قیمت مسلسل کم کرتا ہے ‏پنجاب کے ہر گاؤں تک کارپیٹڈ سڑکیں تعمیر کرتا ہے ان میں قدرتی گیس پہنچاتا یے، بیسک ہیلتھ یونٹس اور ڈی ایچ کیو و سول ہسپتالوں کو فعال کرتا ہے ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور مفت ادویات فراہم کرتا یے ‏پنجاب کے بڑے شہروں میں عام آدمی کی سہولت کیلئے باعزت سفر کیلئے میٹروز تعمیر کرواتا ہے ذہین طالب علموں کیلئے سپیشل فنڈز سے وظیفے اور لیپ ٹاپ سکیم کم پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کیلئے گرین کیب سکیم کھادوں ، بجلی اور خوراک پر سبسڈی حج و عمرہ پر سبسڈی ‏شرح نمو 4 فیصد سالانہ سے اٹھا کر 5.8 فیصد سالانہ
یہ ہے میاں محمد نواز شریف کے سنگین جرائم کی مختصر فہرست انہیں جرائم کی وجہ سے آجکل وہ جیل بھگت رہے ہیں

Wednesday, May 8, 2019

اسلام آباد سٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کی بینک کا اعلان کردیا گیا مزید لنک پر کلک کریں

اسلام آباد(ٹرائیبل  نیوز)سٹیٹ بینک نے ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نئے کرنسی نوٹوں کی بکنگ کی تاریخ کا اعلان کردیا  ۔بینک دولت پاکستان نے گزشتہ سالوں کی طرح رواں سال بھی عیدالفطر پر عوام کو نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کیلئے ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ذریعے ایس ایم ایس سروس کا اعلان کردیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق عوام کو موبائل ایس ایم ایس سروس کے ذریعے کمرشل بینکوں کی نامزد ای برانچز سے نئے نوٹوں کا اجرا 20مئی 2019 سے 31مئی 2019 تک جاری رہے گا، نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کیلئے ایک ایس ایم ایس پر چارجز تقریبا 2روپے جمع ٹیکس ہوں گے۔اس سہولت کے تحت نئے نوٹ حاصل کرنے کے خواہشمند فرد کو شارٹ کوڈ 8877پر ایک ایس ایم ایس پیغام بھیجنا ہوگا، جس میں اسے اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبر اور مطلوبہ ای برانچ کا کوڈ لکھنا ہوگا۔ایس ایم ایس بھیجنے والے فرد کو ایک جوابی ایس ایم ایس موصول ہوگا جس میں اس کا ریڈیمشن کوڈ، ای برانچ کا پتہ اور ریڈیمشن کوڈ کے موثر ہونے کی آخری تاریخ لکھی ہوگی، کوڈ زیادہ سے زیادہ دو یوم(ورکنگ ڈیز)کیلئے موثر ہوگا، صارف کو اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ / اسمارٹ کارڈ، اس کی فوٹو کاپی اور 8877سے موصولہ ریڈیمشن کوڈ لے کر متعلقہ ای برانچ جانا ہوگا جہاں سے نئے نوٹ مل جائیں گے۔اسٹیٹ بینک کے جاری اعلامیے کے مطابق نئے نوٹ ملک بھر کے مختلف بینکوں کی 142 شہروں کی 1700شاخوں سے دستیاب ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی بینک کی بی ایس سی کے 16فیلڈ دفاتر سے بھی شہری نئے کرنسی نوٹ حاصل کرسکیں گے.

Saturday, May 4, 2019

موبائل کارڈ پر عائد ٹیکس کے خلاف ایک نئے ہائ کورٹ میں ایک نئے اپیل دائر

موبائل کارڈ ری چارج پر پورا پورا بیلنس ملنا چاہیے، سپریم کورٹ میں فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔
ابھی چند روز قبل ہی سپریم کورٹ نے موبائل فون پر تمام ٹیکسز بحال کرنے کا حکم دیا ہے کہ ایک اور درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کردی گئی ۔

درخواست ایڈووکیٹ کلثوم خالق کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ موبائل کارڈ پر عوام کو پورا بیلنس ملنا چاہیے۔
موبائل ٹیکس کا معاملہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا ٹیکس بحالی کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
درخواست گزار نے عدالت سے موبائل ٹیکس کٹوتی روکنے کا فیصلہ بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔

Friday, May 3, 2019

اٹلس ہونڈا کمپنی نے موٹر سائیکل کے مختلف ماڈلوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا اعلان چار سو سے چار ہزار تک کا اضافہ کردیا گیا


لاہور/ کار ساز ادارے اٹلس ہونڈا نے موٹر سائیکلوں کے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں 400 سے 2 ہزار روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
, ,
اٹلس ہونڈا کپمنی کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 900، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 900 روپے جبکہ ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے۔
,
اس سے قبل سی ڈی 70 کی قیمت 70 ہزار 500 روپے، سی ڈی ڈریم کی قیمت 74 ہزار 500 روپے اور ہونڈا پرائڈر 100 سی سی کی قیمت 96 ہزار 500 روپے تھی۔
,
اس کے علاوہ سی جی 125 کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزا روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 37 ہزار 900 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 61 ہزار 500 روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 63 ہزار 500 روپے جبکہ سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 93 ہزار روپے ہو گئی ہے۔

,,
سی جی 125 کی قیمت اس سے قبل ایک لاکھ 16 ہزار 500 روپے، سی جی 125 ایس کی قیمت ایک لاکھ 35 ہزار روپے، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزار 400 روپے، سی بی 125 ایف کی قیمت ایک لاکھ 60 ہزار روپے، سی بی 125 ایف سپیشل ایڈیشن کی قیمت ایک لاکھ 62 ہزار روپے اور سی بی 150 ایف کی قیمت ایک لاکھ 91 ہزار روپے تھی۔
,
ہونڈا سی جی 125، سی جی 125 ایس، سی جی 125 ایس سپیشل ایڈیشن، سی بی 125 ایف اور سی بی 125 ایف اسپیشل ایڈیشن کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
,
یاد رہے کہ اٹلس ہونڈا نے رواں سال یکم مارچ کو اپنے مختلف موٹر سائیکل ماڈلز کی قیمت میں 600 سے 2 ہزار روپے اضافہ کیا تھا۔ کمپنی کی جانب سے گزشتہ سال 2018ء میں کم از کم 6 مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

Thursday, May 2, 2019

پی ٹی آء حکومت کو ناقص کار کردگی کا ڈھونگ رچانے والوں متبادل تو بتادو تمہیں بار بار آزماکر عوام کی حالت نہیں بدلی دن بدن ملک قرضوں تلے ڈبو دیا گیا


جب سے پی ٹی آئی کی حکومت بنی ہے ملک میں تب سے  باقی تمام سیاسی جماعتوں میں روزِ اول سے ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ نون لیگ،  جماعت اسلامی،  جے یو آئی، پیپلزپارٹی،  وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام جماعتیں اپنا سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ کسی بھی طور کسی بھی قیمت پر ملک میں موجود حکومت کو ناکام بنایا جائے اور اپنا اُلو پھر سے سیدھا کیا جائے۔

آخر کیوں؟

کیا اِس لئے کہ ماضی کی تمام سیاسی جماعتوں کے عیش و عشرت کے جو دن گزرے ہیں وہ پھر سے لوٹ آئیں؟ یا کہ جن شہرہ آفاق ناکام پالیسیاں اُن گزرے ہوئے سیاستدانوں نے ملک کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی تھیں وہ پھر سے لاگو کی جائیں جو کہ ایک خام خیالی ہے اور ملک جو کہ ستر سالوں سے کسی اپاہج کی طرح لنگڑا کر گرتا پڑتا چلا جا رہا تھا اُسے پھر سے اِنہی لٹیروں کے حوالے کیا جائے؟

یہ جو لوگ آج تبدیلی پر نعرہ زنی کرتے  تھکتے نہیں ،اُن سے ایک سوال ہے کہ آپ کا متبادل کون ہوگا؟

کیا یہ ملک اُنہی گھسے پٹے سیاستدانوں کی ملکیت ہے؟ کیا عوام کو ہر بار اُن کی موروثی سیاست کے بھینٹ چڑھایا جائے گا؟

موجودہ حکومت پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اناڑیوں کا ٹولہ ہے۔  تو جو پہلے آئے تھے وہ کونسے کھلاڑی تھے؟ کیا اُن کی کھلاڑی پن نے ملک میں چار چاند لگا دیئے تھے؟
بہت سے دانشور یہ بات اُچھال رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو ہے تو اُن سے میرا یہ سوال ہے کہ گزرے دور کا وزیر اعظم کس کا پٹھو تھے؟
کیا وہ عوامی تھے؟ کیا وہ کسی کی بیساکھی تھام کر نہیں آیا تھا؟
اور آج جب معاملات خراب ہیں تو دوسرے کو پٹھو پٹھو کہتے نہیں تھکتے؟

فوج اور اداروں پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے یہ صاحبان ہر روز شام کا کھانا بارڈر پر کھاتے ہیں اور ہر دن بندوق کی نالی سے بارود صاف کرنے میں گزارتے ہیں۔ وہ فوج جن کی بدولت آرام سے گھر میں بیٹھے گرم بستروں میں خراٹے لیتے  رہتے ہیں وہ بھی پانچ ہزار کا موبائل لے کر پوسٹ داغ دیتے ہیں!
کہ
" فوج نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ہمارے نوشیروان عادل کو انتخابات میں دھاندلی سے ہرایا گیا الیکشن ریگ ہوئے تھے" تمام معاملات فوج کے کنٹرول میں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

 کون ہو تم لوگ؟
حیثیت کیا ہے تمھاری ؟ کیا تم لوگ فوج کے بغیر رہ سکتے ہو؟ کیا فوج کے بغیر تم میں اتنا دم ہے کہ دشمن کو جواب دے سکو؟

سوال یہ ہے اُن تمام دانشورانِ زمانہ قدیم سے آپ کیا چاہتے ہیں؟
کون موزوں ہے موجودہ حالت میں؟ حل ہے تو بتائیں تنقید نہیں حل۔
 اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم پھر اُنہی پرانے پاپیوں کو لے کر آئیں گے جن کی وجہ سے یہ حالت ہوئی ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہونا۔
 پھر بھی آپ کے پاس کوشش ہے کوشش کرکے دیکھیں شاید کامیاب ہو جائیں۔

بلو رانی کہتی رہی کہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں آج کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب ہمیں فوج سے دھمکیاں نہ دلوائیں؟
عجیب بدحواسی کے شکار ہیں۔
 مگر فکر نہ کریں جس طرح پرانے اناڑیوں نے ملک کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ٹھیک اُسی طرح نئے حکمرانوں کا بھی حق ہے کہ وہ بھی سیکھیں۔ اور جب سیکھ بھی جائیں گے تو اتنا یقین ہے کہ برسوں سے ماضی کے مسلط شدہ اور نصب شدگان سے اچھی ہی کارکردگی دیکھائیں گے۔

پاک فوج زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد ۔

اسلام آباد/ نان فائل گاڑی مالکان کیلئے خوشخبری منگل سے اپنی گاڑیاں رجسترڈ کروائ جاسکیں گی

ملکی سطح پربنائی جانے والی گاڑیاں منگل کے روزسے صوبہ بھرمیں رجسٹرڈ کروائی جاسکیں گی، قانون میں ترامیم کے اطلاق کا نوٹیفکیشن پرعملدرآمد کے لیے ایکسائز موٹر برانچزکا سسٹم اپڈیٹ کردیا گیا۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو ملاقات، سلمان رفیق نے بڑی پیشگوئی کردی
جون 2018 میں نان فائلرزکو پنجاب میں نان فائلرز کے نام گاڑیوں کی رجسٹریشن روک دی گئی تھی جسکی وجہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اورمحکمہ ایکسائز کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ڈائریکٹرریجن سی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے موٹرایکٹ میں ترمیم کردی گئی ہے اور منگل کے روز سے اس پرعملدرآمد کا حکم دے دیا گیا ہے، اب لوکل تیار ہونے والی تمام گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور ٹریکٹرز کو نان فائلرز اپنے نام پر رجسٹرڈکرواسکیں گے جبکہ امپورٹڈ گاڑیاں صرف فائلرز کے نام پرہی رجسٹرڈ ہونگی۔

نان فائلرزکی رجسٹریشن سےمحکمے کو3 ارب تک اضافی ریونیو اکٹھا ہونے کی توقع ہے، دوسری جانب حکومت نے لوڈر رکشوں کے مالکان کوبھی 31 مارچ تک پاسنگ کروا کر رجسٹرڈ کروانے کاحکم دیا ہے جس پر ڈی جی ایکسائز نے عملدرآمد کے تمام ڈائریکٹرز کو مراسلہ بھجوادیا ہے

اسلام آباد وفاقی وزیر علی محمد خان نے استعفی کا اعلان کرکے پی ٹی آئی کو لمحہ فکریہ قرار

علی محمد خان نے عمران خان کو بڑا جھٹکا دیدیا ، استعفیٰ دینے کا اعلان ، وجہ بھی ایسی کہ پاکستانی خوشی سے جھوم اٹھے ۔۔۔ تحریک انصاف کے رہنما، وفاقی وزیر علی محمد خان نے مستعفی ہونے، سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی دھمکی دے دی، وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے، اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے،کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اسلام کے خلاف کوئی بل پاس کر سکے۔ علی محمد خان کہتے ہیں کہ اسلام میں بلوغت کے حوالے سے طریقہ کار طے ہے۔ کم عمری کے شادی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے پر وزارت اور سیاست تک قربان کرنے کو تیار ہوں۔ کم عمری کی شادی پر پابندی پر پابندی کا بل اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے، پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل پاس نہیں کیا جاسکتا، اس کو نطریاتی کونسل کے پاس بھجوایا جائے اور ان کی سفارشات کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے اراکین کی اکثریت نے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کی حمایت کر دی تھی۔